Jamil's profileSub EditorPhotosBlogListsMore Tools Help

Blog


    May 26

    الطاف بھائی ! کاش آپ دہشت گرد ہوتے


         جمشید نسروانجی کا نام کراچی کے کتنے لوگوں کو یاد ہوگا .........؟؟؟؟

        شاید چند ایک کو ........ جمشید نسروانجی انیسویں صدی کے اواخر میں کراچی کے میئر گزرے ہیں ، انہوں نے اپنے زمانے میں کراچی کی  ترقی کے لیے خوب کام کیا ، سڑکیں بنوائیں ،  سڑکوں کی تعمیر میں رکاوٹ بننے والی رہائشی و غیر رہائشی عمارتوں کو منہدم کروادیا ، کراچی میں پہلی مرتبہ سرکاری طور پر رات کو روشنی کا انتظام کیا گیا ........

        کراچی میں آج بھی بارش بہت کم ہوتی ہے اور بقول مشتاق احمد یوسفی کے '' سارا سال آسمان سے ریت برستی رہتی ہے ''......... ایک صدی پہلے بھی حال کچھ ایسا ہی تھا ، جمشید نسروانجی کی میئری کے دور میں لگاتار تین سال تک بارش نہیں ہوئی اور ڈملوٹی کے کنوئیں جہاں سے کراچی کی آبادی کو پانی فراہم کیا جاتا تھا ، بالکل خشک ہوگئے .........جمشید نسروانجی اس صورتحال سے اس قدر پریشان ہوئے کہ رات بھر میں ان کے سر کے بال سفید ہوگئے .........

        یہ اچھے وقتوں کے اچھے اور نیک خصلت لوگوں کی مثال ہے ........ ورنہ آج کل تو ڈھٹائی کا عالم یہ ہے کہ ریلوے کے وزیر باتدبیر(یاد رہے '' تدبیریں '' یہ لوگ صرف اپنی تجوریاں بھرنے کی ہی کرتے ہیں )نے آئے دن ٹرینوں کے حادثات کے حوالے سے کیے جانے والے سوال کے جواب میں نہایت شان بے نیازی کے ساتھ ارشاد فرمایا کہ '' مسافروں کو چاہیے کہ وہ ٹرینوں میں سفر کرتے ہوئے درود شریف کا ورد کرتے رہا کریں ''.............. ماشاء اللہ کیا نسخہ تجویز کیا ہے ! ........ اگر غلطی سے کوئی اس پر اعتراض کر بیٹھے تو اُسے '' توہین رسالت '' کا الزام لگا نے کے بعد مار مار کر ہلاک کردینے کی سعادت حاصل کرنے کے لیے '' دیوانے '' چاروں اطراف سے پتنگوں کی طرح نکل آئیں گے .......... اس لیے کہ الحمد للہ ! ہم ایک اسلامی ملک میں رہتے ہیں ........ عقل و شعور کا استعمال تو کافروں کا دستور ہے ، ان کے ممالک میں ہی ایسی باتوں پر اعتراضات کیے جاتے ہوں گے ، یہاں تو ایسے ارشادات سننے کے بعد توند پر ہاتھ پھیرتے ہوئے ڈکار کے ساتھ '' سبحان اللہ '' کہنے والوں کی تعداد میں دن رات بلکہ راتوں رات مسلسل اضافہ ہورہا ہے ..............

        ترقی یافتہ ممالک کو تو چھوڑیے ہمارے پڑوسی بھارت میں کوئی وزیر اس قسم کا کوئی بیان بے دھیانی میں دے دے تو شاید اگلے ہی روز اسے استعفیٰ دینا پڑ جائے ............ لیکن ایسی بے ہودہ روایات کا ہم سے کیا تعلق .........؟؟؟؟،الحمد للہ ! ہم مسلمان ہیں ..........

         شکر ادا کیجیے کہ وزیر موصوف نے مزید ورد و وظائف تجویز نہیں فرمائے ، مثلاً وہ ٹکٹ اور سیٹ و برتھ کے حصول سے لے کر ٹرینوں کی وقت پر روانگی و آمد تک کے لیے وظائف کی ہدایت فرماسکتے تھے ، ہاں ہمیں اتنا یقین ہے کہ وہ منزل پر بخیریت پہنچنے کی نفلیں ماننے کی ہدایت نہیں دیں گے ، اس لیے کہ ہمارے ہاں محکمہ ریلوے کی ابتداء ہی سے بڑی بوڑھیاں ایسا کرتی چلی آرہی ہیں ...........

        جب سے موجودہ جمہوری حکومت برسراقتدار آئی ہے ، اسے ' ' اسلام''کے نفاذکی انتہائی فکر لاحق ہے ، اسی فکر میں ملا صوفی محمد کو قید سے رہائی دلواکر انہیں '' نفاذعدل '' کی ذمہ داری سونپی گئی  ( گویا دنیا میں اب تک کہیں عدل کا نام ونشان نہیں تھا )، صوفی صاحب کے بارے میں ہم نے پڑھا ہے کہ افغانستان میں امریکہ کے حملے کے وقت لگ بھگ دس ہزار نوجوانوں کو اپنے ہمراہ  ''جہاد '' کی غرض سے لے گئے تھے ، تمام نوجوانوں کو '' شہادت '' کے مرتبے پر فائز کروایا ، خود تن تنہا وطن واپس تشریف لے آئے ..........تاکہ '' خدمت '' کا یہ سلسلہ جاری رہے ..........

        یہ تو خیر جملہ معترضہ تھا ، ہم بات کررہے تھے جمہوری حکومت کی '' اسلام پسندی '' کی ....... اس حکومت کے کارپردازوں نے کافروں کے ممالک کا دورہ کرکے نہایت '' گہری نظر ''سے '' جائزہ ' 'لیا .......... چونکہ ان ممالک میں عوام کو قدم قدم پر بیش بہا سہولتیں فراہم کی جاتی ہیں اور '' شریعت '' میں کافروں کی مشابہت '' حرام '' ہے ، اس لیے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے عوام کو جو چند ایک سہولتیں حاصل تھیں ، '' شریعت '' کی پاسداری کرتے ہوئے تمام کی تمام واپس لے لیں ........... مختلف مدوں میں سبسڈی دے کر عوام کو ارزاں نرخوں پر اشیائے ضرورت کی فراہمی کا سلسلہ چونکہ کافروں کے ممالک میں جاری ہے ،اس لیے '' اسلامی جمہوریہ پاکستان '' میں مہنگائی کو آسمان کی آخری حد تک پہنچا دیا گیا ...........آٹا ، چینی ، پانی ، بجلی کو کمیاب نہیں بلکہ نایاب کردیا گیا ، تاکہ کافروں سے کسی بھی طرح ہماری '' مشابہت '' نہ ہو سکے .........

        ریلوے کا سفر انتہائی پر خطر اور اس سے بھی زیادہ مہنگا اس لیے بنا یا گیا ہے کہ ہمارے '' ازلی دشمن '' بھارت میں اس سفر کو انتہائی سستا اور آسان بنادیا گیا ہے  ............  

        توبہ توبہ .......... کیا ہم پر اب اتنا برا وقت آگیا ہے کہ ہم ہندوئوں کے جیسے کام کریں ..........  ؟؟؟

        وہ تو ہندو ہیں ! .......... انہیں اگر دنیا میں آسانیاں اور سہولتیں حاصل ہورہی ہیں تو آخر کا ر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جہنم کی آگ میں جلنا ہے ، اور ہم تو مسلمان ہیں ، دنیا میں سختیاں برداشت کرنے کا حوصلہ ہم میں ہی تو ہوتا ہے ، اور آخرت میں '' کنچی '' آنکھوں اور '' کنچن نیر '' بدن حوریں بالآخر ہمیں ہی تو ملنی ہیں ..........واللہ اعلم باالصواب

        بھارت میں طلباء ، اساتذہ ، بزرگ شہریوں ، بیمار اور اسپیشل افراد وغیرہ کو ٹرین کے کرایہ میں خاصی رعایت دی جاتی ہے ، مثلاً ساٹھ سال یا اس سے زائد عمر کے افراد کو تیس فیصد تک رعایت ملتی ہے ، سالانہ چھٹیوں کے دوران طلباء وطالبات سفری کرایہ میں پچھتر فیصد رعایت حاصل کرسکتے ہیں ، یعنی 100رُ پے کا ٹکٹ 25رُ پے میں مل جاتا ہے ۔ طلباء وطالبات کو سال کے باقی حصے میں 25فیصد رعایت ملتی ہے ۔ غیر ملکی طلباء 50فیصد تک ریلوے کرایہ میں رعایت حاصل کرسکتے ہیں ۔ 35سال عمر کے افراد اگر ملازمت کے حصول کے لیے ایک شہر سے دوسرے شہر یا ایک ریاست سے دوسری ریاست ( یاد رہے بھارت کی کچھ ریاستیں ایک دوسرے سے براعظم کی دوری پر واقع ہیں ) کا سفر کریں تو 50فیصد تک رعایت ملتی ہے ، بلکہ بعض ٹرینوں کی سیکنڈ کلاس کے ڈبوں میں مفت سفر کی اجازت بھی دی گئی ہے ۔شہید فوجی کی بیوہ کو جب بھی وہ ٹرین سے سفر کرے ، 75فیصد تک رعایت ملے گی ۔ ایسے تمام مزدوروں کو جنہیں ان کی کارکردگی پر اعزازت مل چکے ہوں ، انہیں 50فیصد رعایت دی جاتی ہے ۔ اسپیشل افراد کو 75فیصد رعایت ملتی ہے ، بلکہ ان کے ہمراہ ان کی مدد کے لیے سفر کرنے والے عزیز یا دوست کو بھی اتنی ہی رعایت ملے گی ۔ یہ فہرست تو خاصی طویل ہے ، لیکن یہاں اتنا ہی کافی ہے ۔

        الحمد للہ ! ہم مسلمان ہیں ........ ہمیں سہولتیں اور زندگی کی آسانیاں نہیں بلکہ '' شریعت کا نفاذ '' درکار ہے ، بلکہ طالبانی شریعت کا ......

        ہمارے دوست '' نون '' کا بھی پاکستان کے لوگوں کی اکثریت کی مانند یہی خیال ہے کہ یہاں طالبانیت طرز کی حکومت ہونی چاہیے ، تاکہ جو بھی جرم کرے اس کو فی الفور سزا دے دی جائے ...........

        ہم اپنے دوست ''نون '' سے یہ سوال کرتے ہیں کہ کیا ان طالبانوں نے کبھی بڑے لوگوں کی موٹی گردنوں پر ہاتھ ڈالنے کی بھی ہمت کی ............؟؟؟؟؟؟

        نہیں ........ ہرگز نہیں !.........ان کے ہاتھ تو عام اور مجبور آدمیوں کی گردنوں کوہی ان کے دھڑوں سے الگ کرسکے ........!!

        ان کی طرف سے کیے گئے تمام خودکش حملوں میں عام آدمیوں کی بہیمانہ ہلاکتیں ہوئیں .........!!!

        نہ توکبھی انہوں نے مردانہ وار کسی '' بڑے '' کو اس لیے للکارا کہ وہ ایک خاص مدت کے اندر اندر مہنگائی ختم کریں ، بنیادی ضرورتوں پر سے ختم کی گئی سبسڈیز واپس کریں ، ہر فر دکے لیے تعلیم اور علاج معالجہ کی سہولتیں مفت ہونی چاہیے ، مزدور کی ماہانہ تنخواہ ایک تولہ سونے کی قیمت کے برابر ہونی چاہیے ......... وغیرہ وغیرہ

        اب تک ان کے جو بھی مطالبات سامنے آئے ہیں ، ان مطالبات کی سطح ریلوے کے وزیر باتدبیر کے مذکورہ بیان کی سطح سے ہرگز بلند نہیں .........!

        جب سے متحدہ قومی موئومنٹ نے طالبانی نظریات کی کھلم کھلا مخالفت شروع کی ہے ، تب سے منشیات و بردہ فروشوں ، اسمگلروں ، لینڈ مافیاز کے پروردہ قلمکاروں نے اس جماعت کے خلاف گویا ایک مہم سی شروع کردی ہے ، معلوم نہیں ایم کیو ایم والوں کو اس کی خبر بھی ہے یا نہیں ، ایم کیو ایم کی قیادت کو یہ لوگ اپنی تحریروں میں '' دہشت گرد '' کے عنوان سے پکارتے ہیں .........روزانہ اس قسم کے تبصروں سے پُر سینکڑوں ای میلز ہمیں بھی موصول ہورہی ہیں ......... جن میں سے چند کو ہی دیکھنے کے بعد ہم ایک سرد آہ بھر کر کہتے ہیں :

        الطاف بھائی ! کاش آپ دہشت گرد ہوتے ........

        کاش یہ حقیقت ہوتی تو کراچی کے کتنے مسائل خود بخود حل ہو جاتے ........ .

        آپ صرف اعلان کرتے کہ '' کے ای ایس سی '' اہلکار سدھر جائی ورنہ '' بوری '' تیار ہے .........کراچی میں بجلی کی کمی چند سو میگا واٹ بتائی جاتی ہے ، جسے ہر علاقے میں چوبیس گھنٹوں کے دوران ایک ایک گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کرکے پوراکیا جاسکتا ہے ، لیکن کے ای ایس سی کے ذمہ داران پورے کراچی میں دس سے بارہ گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کررہے ہیں اور اگر کہیں کوئی فالٹ ہوجائے تو یہ دورانیہ مزید طویل ہوجاتا ہے ......... اس طرح اس محکمے کو کروڑوں کی بچت روزانہ ہو رہی ہے ....... حبس اور گرمی میں لوگوں کی اکثریت بے حال ہے ، کتنے لوگ ہوں گے جو جنریٹرز یا یوپی ایس افورڈ کر سکتے ہوں گے .........ان کی تعداد تو آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں ......... ایسے میں اگر الظاف بھائی بیان دیتے کہ کے ای ایس سی کے اعلیٰ افسران ایک ہفتے کے اندربجلی کی پیداوار اتنی بڑھادیں کہ یہاں مزید بڑے بڑے صنعتی زونز بنائے جاسکیں ......... ورنہ تو ان کے لیے '' بوری '' تیار ہے ......... او ر کسی حرامخور کو کسی '' درجے '' کا سبق بھی سکھا دیا جاتا تو دیگر کے لیے بھی یہ ایسا سبق ہوتا کہ وہ ساری زندگی بھلا نہیں پاتے ........کراچی کی بڑ ی صنعتوں سے لے کر چھوٹی اور گھریلو صنعتیں شدید بحران سے دوچار ہیں ، یہ صورتحال بے روزگاری میں اضافے کا باعث بھی بن رہی ہے ........... ایسے میں بیروزگاروں کا سیلاب طالبانیت کا راستہ بھی اختیار کرسکتا ہے ......

         کراچی میں گلوبل وارمنگ نتیجے میں سال بہ سال موسم بے تحاشہ گرم ہوتا جارہا ہے ، چنانچہ الطاف بھائی اعلان کرتے کہ کراچی کے غریب عوام ( جن میں سندھی ، بلوچی ، مکرانی ، کاٹھیا واڑی ، میمن ، پارسی ،کچھی ، پنجابی ، پٹھان ، ہزاروی ، سواتی اور اردو اسپیکنگ سب ہی شامل ہیں )کی سہولت کے لیے اسپلٹ ایئر کنڈیشنرز  پر سے ڈیوٹیز ختم کی جائے اور بجلی نہایت سستی کی جائے...........

        اگر الطاف بھائی واقعی دہشت گرد ہوتے تو کس کی مجال ہوتی کہ وہ چوں بھی کرسکے .........

        لیکن دوستو ! یہ حقیقت نہیں ........... ایم کیو ایم کے سٹی ناظم مصطفے کمال کتنے ہی معاملات میں ہاتھ مل کر رہ جاتے ہیں ، اور کچھ بھی نہیں کرپاتے ، مثلاً الہ دین پارک کے سامنے سڑک پار کرنے کے لیے پیڈسٹیرین برج کی تعمیر کے معاملے کو ہی لے لیجیے جو پچھلے چار سالوں سے کنٹونمنٹ والوں کی نہایت بچکانہ سی ضد کی وجہ سے ٹلتاچلا آرہا ہے ............ اس جگہ سے خواتین بچے روزانہ ہزاروں کی تعداد میں سڑک کراس کرتے ہیں ، اب تو اس جگہ سے سڑک پار کرنا جوئے شیر لانے سے کم نہیں رہا ........... اگر یہ لوگ ایسے ہوتے تو کس کی مجال تھی کہ اس معاملے کو ٹالنے کی تو کیا بولنے کی ہی ہمت کر لیتا .........

        کتنی ہی بستیاں کراچی میں ناجائز طور پر آباد ہیں ، یہی نہیں بلکہ وہاں منشیات فروشوں کے اڈے ہیں ، جرائم پیشہ افراد بھی انہی بستیوں میں پناہ لیتے ہیں ....... بعض ناجائز طور بسائی گئی بستیاں پانی یا سیوریج کی پائپ لائن پر ہی آباد کر دی گئی ہیں ، مصطفےٰ کمال یا ایم کیو ایم ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکی .........

    Comments (1)

    Please wait...
    Sorry, the comment you entered is too long. Please shorten it.
    You didn't enter anything. Please try again.
    Sorry, we can't add your comment right now. Please try again later.
    To add a comment, you need permission from your parent. Ask for permission
    Your parent has turned off comments.
    Sorry, we can't delete your comment right now. Please try again later.
    You've exceeded the maximum number of comments that can be left in one day. Please try again in 24 hours.
    Your account has had the ability to leave comments disabled because our systems indicate that you may be spamming other users. If you believe that your account has been disabled in error please contact Windows Live support.
    Complete the security check below to finish leaving your comment.
    The characters you type in the security check must match the characters in the picture or audio.

    To add a comment, sign in with your Windows Live ID (if you use Hotmail, Messenger, or Xbox LIVE, you have a Windows Live ID). Sign in


    Don't have a Windows Live ID? Sign up

    Gamzi Azeemiwrote:
    Assalamoalikum Jameel bhai
    umeed hai aapko kherat say hongay.
    bhai yeh aapka materail to buhut acha hai par esay parhnay main diqqat paish arahi hai waja is ki aapka font style hai.
    plz isko change kgy.
    aapki behun Asmee Azeemi
    May 31

    Trackbacks

    The trackback URL for this entry is:
    http://jamil-ahmed-khan.spaces.live.com/blog/cns!FC3C67C837F44073!148.trak
    Weblogs that reference this entry
    • None